مصنوعی ذہانت کی مدد سے چلنے والی “جعلی شناخت” کی مہمات کو روکنا
گزشتہ ڈھائی سال میں ہم نے بدنیت عناصر کے بہت سے طریقوں کے بارے میں رپورٹیں شائع کی ہیں، جن میں سے ان طریقوں کے ذریعے انہوں نے ہمارے ماڈلز کو سائبر حملوں، خفیہ رائے سازی کی مہمات، دھوکا دہی اور ہماری استعمال کی پالیسیوں کی دیگر خلاف ورزیوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی. ہم یہ رپورٹیں اس لیے شائع کرتے ہیں کہ نگران اداروں، اپنے شعبے کے دیگر اداروں اور عام معاشرے کو بتا سکیں کہ ہمارے مشاہدے میں بدنیت عناصر مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کی کیا کوششیں کر رہے ہیں، اور ان کمزوریوں کو سامنے لا سکیں جن سے وہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں.
ہم نے حال ہی میں رائے سازی کی دو مہمات پر پابندی لگائی، ایک روس سے اور دوسری ایران سے چل رہی تھی. ان میں ہمارے ماڈلز کو روایتی طریقوں اور ٹیکنالوجیوں کے ساتھ استعمال کرکے نفیس “جعلی شناخت” والے اداروں کو سہارا دیا جا رہا تھا. ان اداروں کے ذریعے جغرافیائی سیاست اور تنازعات سے متعلق پیغامات کا اصل ماخذ چھپا کر انہیں ہدف بنائے گئے لوگوں تک پہنچایا گیا. ایرانی مہم میں سات فرضی “صحافی” تھے جن کے ذریعے دنیا بھر کے چھوٹے اور درمیانے آن لائن اداروں کو طویل مضامین کی اشاعت کی تجاویز بھیجی جاتی تھیں؛ روسی مہم نے بظاہر لاطینی امریکہ کے بے خبر لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر وہاں ایک “تحقیقی ادارہ” چلایا.
دونوں مہمات کے کئی پہلو تھے اور انہوں نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مختلف حربے آزمائے. طویل مضامین کے علاوہ ایرانی مہم نے سماجی ذرائع ابلاغ کے لیے تبصروں کے مجموعے بھی تیار کیے، عموماً امریکہ اور ایران کی جنگ سے متعلق موضوعات پر. روسی مہم نے “تحقیقی ادارے” کو چلانے کے ساتھ ساتھ جعلی “افشا شدہ” دستاویزات اور آڈیو کے مسودے بھی بنائے، جن میں سے بعض کو ہم نے آن لائن پھیلتے دیکھا. دونوں مہمات نے داخلی رپورٹیں لکھنے کے لیے بھی مصنوعی ذہانت کا بہت استعمال کیا (روسی مہم نے اسے سب سے زیادہ اسی کام کے لیے استعمال کیا). دونوں میں کارندوں کی کارکردگی بڑھا چڑھا کر دکھانے کے لیے مشکوک یا سراسر فریب پر مبنی طریقے اپنائے گئے.
ان مہمات کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ یہ مصنوعی ذہانت سے پہلے کے دور کی پیچیدہ رائے سازی مہمات سے بہت ملتی تھیں، مگر کام کے بعض مراحل آسان بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرتی تھیں. ایرانی مہم کے فرضی صحافی جعلی صحافی “ایلس(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) ڈونووَن(نئی ونڈو میں کھلتا ہے)” سے مشابہ تھے. یہ روسی فوجی انٹیلی جنس کی پردہ پوش شناخت تھی، جس کے مضامین 2016-17 میں مختلف مغربی اشاعتی اداروں نے شائع کیے تھے. 2020 میں روسی انٹرنیٹ ریسرچ ایجنسی کی سابقہ سرگرمیوں سے وابستہ افراد نے “پیس ڈیٹا(نئی ونڈو میں کھلتا ہے)” نامی جعلی “خبری” ادارہ چلایا، جس نے دنیا بھر کے بے خبر صحافیوں سے اپنے لیے تحریریں لکھوائیں.
یہ مہمات اپنی ممکنہ رسائی کے لحاظ سے بھی غیر معمولی تھیں. رائے سازی کی مہمات کو 1 (کم ترین) سے 6 (زیادہ ترین) تک درجہ دینے والے دائرۂ رسائی کے پیمانے(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) کے مطابق ہم روس سے چلنے والی مہم کو زمرہ 5 میں رکھیں گے. اپنی رپورٹنگ شروع کرنے کے بعد یہ زمرہ 5 کی پہلی مہم ہے جسے ہم نے روکا ہے. ایران سے چلنے والی مہم زمرہ 4 تک پہنچی. دونوں نے محض سماجی ذرائع ابلاغ پر پوسٹ کرنے کے بجائے اپنا مواد مرکزی دھارے کے اشاعتی اداروں میں پہنچا دیا؛ یہ تمام مواد ہمارے ماڈلز سے تیار نہیں ہوا تھا. یہ اس رجحان سے مطابقت رکھتا ہے جو ہم نے گزشتہ ڈھائی سال میں بے نقاب کی گئی 30 خفیہ رائے سازی مہمات میں دیکھا ہے: جو مہمات سماجی ذرائع ابلاغ پر جعلی اکاؤنٹس سے مواد پھیلانے کے بجائے حقیقی اشاعتی اداروں میں اپنا مواد شائع کروانے کی کوشش کرتی ہیں، ان کی ممکنہ رسائی اور اثرات عموماً سب سے زیادہ ہوتے ہیں.

2024 کے اوائل سے ہماری بے نقاب کردہ 30 رائے سازی مہمات کا جدول. ان کا جائزہ تقسیم کے بنیادی طریقے (سماجی ذرائع ابلاغ، مہم کی اپنی ویب سائٹ، بیرونی اشاعتی ادارے) اور دائرۂ رسائی کے پیمانے پر درجے کے لحاظ سے لیا گیا ہے. ایک سے زیادہ طریقے استعمال کرنے والی مہمات، مثلاً ویب سائٹ چلا کر سماجی ذرائع ابلاغ پر اس کی تشہیر کرنے والی مہمات، کو اس طریقے کے تحت رکھا گیا ہے جو بظاہر ان کی سرگرمی کا بنیادی حصہ تھا.
مصنوعی ذہانت ایسی جعلی شناخت والی مہمات کا پیمانہ، کارکردگی، زبان کی روانی اور اداراتی صلاحیت بڑھا سکتی ہے. کارندے ان فوائد سے ملازمین یا مدیران جیسے بے خبر لوگوں کا استحصال کر سکتے ہیں، اور اپنا مواد ایسے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں جنہیں بالکل علم نہیں ہوتا کہ اس کے پیچھے کون ہے یا اس کے مقاصد کیا ہیں. یہ مہمات یہ بھی دکھاتی ہیں کہ بدنیت عناصر اپنے مقاصد کے لیے فرضی شناختوں اور اداروں کو کتنی پیچیدگی اور مہارت سے استعمال کرتے ہیں. اداروں کا مضبوط دفاع برقرار رکھنے کے لیے ان کمزوریوں کو سمجھنا ضروری ہوگا جن سے بدنیت عناصر فائدہ اٹھاتے ہیں، اور یہ جاننا بھی کہ ان کمزوریوں کے ذریعے وہ سامعین و قارئین تک رسائی کیسے حاصل کرتے ہیں.
لیکن ان جعلی شناخت والی مہمات کی خفیہ نوعیت ہی ان کو ذمہ داری کے ساتھ بے نقاب کیے جانے کے مقابلے میں خاص طور پر کمزور بناتی ہے. “ایلس ڈونووَن” اور “پیس ڈیٹا”، دونوں نے بے نقاب ہونے کے بعد اپنی سرگرمیاں بند کر دیں. اسی لیے ان جعلی شناخت والی مہمات کی رپورٹنگ میں ہمارا مقصد مزید تحقیق اور ان کی روک تھام کو آسان، اور ان مہمات کو جاری رکھنا مشکل بنانا ہے.
روس سے تعلق رکھنے والے عناصر جو لاطینی امریکہ بھر میں رائے سازی کی مہمات چلا رہے ہیں.
ہم نے روس سے چلنے والے ChatGPT اکاؤنٹس کے ایک گروہ پر پابندی لگائی. انہوں نے لاطینی امریکہ کے مختلف ممالک کو نشانہ بنانے والی خفیہ رائے سازی مہمات سے متعلق کئی کاموں کے لیے ChatGPT استعمال کیا. ان سرگرمیوں کا بڑا حصہ بظاہر خطے میں یوکرین کی ساکھ خراب کرنے کے لیے تھا، مگر بعض کا مقصد مقامی سیاسی نتائج پر اثر ڈالنا معلوم ہوتا تھا، خصوصاً ارجنٹائن اور بولیویا میں. بیشتر کارندے روسی میں ہدایات دیتے تھے؛ ایک ہسپانوی میں ہدایات دیتا تھا، مگر وہ بھی بظاہر روس ہی میں تھا. ہم نے اس معاملے کی معلومات متعلقہ حکام کے ساتھ شیئر کی ہیں.
کارندوں نے ChatGPT کو تین اہم کاموں کے لیے استعمال کیا: اپنی سرگرمیوں کی داخلی رپورٹیں لکھنا (اور دوسروں کی ان سرگرمیوں کی بھی جن کا سہرا وہ معقول طور پر اپنے سر لے سکتے تھے)، اپنی مہمات کے لیے مواد بنانا، اور لاطینی امریکہ میں سماجی تحقیقی مرکز (ایس آر سی) نامی خود ساختہ “تحقیقی پلیٹ فارم” کی کارکردگی کی رپورٹیں تیار کرنا. بظاہر وہ “میا کلارک” نامی فرضی شناخت کے ذریعے ایس آر سی کو چلاتے تھے؛ اسی نام کی مناسبت سے ہم نے اس مہم کو “ڈارک کلارک” کہا ہے. چونکہ ہم روس سے اپنے ماڈلز تک رسائی کی اجازت نہیں دیتے، اس لیے انہوں نے ہماری خدمات سے جڑنے کے لیے وی پی این استعمال کیے.
اپنی داخلی رپورٹوں میں کارندوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے یوکرین یا مقامی رہنماؤں کی ساکھ خراب کرنے کے لیے لاطینی امریکہ بھر میں جھوٹی خبریں پھیلائیں. ان میں سے بعض جعل سازیوں کو عوامی ذرائع سے تحقیق کرنے والے(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) محققین(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) نے “پولیٹولوجی” یا “لا کومپانیا” نامی روسی تنظیم سے منسوب کیا ہے. اطلاعات کے مطابق یہ واگنر گروپ اور روسی بااثر ارب پتی یفگینی پریگوژن کی قائم کردہ دیگر تنظیموں کی جانشین ہے. کارندوں نے ہمارے ماڈلز سے پولیٹولوجی اور واگنر کے بارے میں شائع شدہ رپورٹوں کے ترجمے یا وضاحت بھی مانگی، روس سے تعلق رکھنے والے کسی بھی دوسرے نیٹ ورک کے مقابلے میں کہیں زیادہ.
یہ مہم دو لحاظ سے غیر معمولی تھی. پہلا یہ کہ بظاہر اس نے لاطینی امریکہ کے لوگوں کو ایس آر سی کے لیے کام کرنے پر کامیابی سے آمادہ کر لیا تھا. ایس آر سی کے بارے میں روسی کارندوں کی رپورٹوں میں تنخواہوں کے درجات، بھرتی اور برطرفی جیسے معاملات کے فیصلوں کا ذکر تھا. اس سے لگتا ہے کہ وہ ادارے کے ساتھ تعاون نہیں بلکہ اسے خود چلا رہے تھے. دستیاب شواہد بتاتے ہیں کہ لاطینی امریکہ میں ایس آر سی کے ملازمین کو علم نہیں تھا کہ وہ ایک روسی گروہ کے لیے کام کر رہے ہیں. روس سے منسلک ایک اور “تحقیقی ادارے” کے برعکس، جسے ہم نے حال ہی میں بے نقاب کیا، ایس آر سی نے بظاہر اپنے ساتھ ملائے گئے عملے کے ذریعے زیادہ تر اصل مواد تیار کروایا. گزشتہ ڈھائی سال میں ہم نے پردہ پوش شناخت کے تحت کام کرنے کی جن کوششوں کو روکا ہے، ان میں یہ سب سے پیچیدہ ہے.
دوسرا یہ کہ عوامی ذرائع کے بعض شواہد کے مطابق ڈارک کلارک کی جعل سازیاں اتنی پھیلیں کہ ان پر حقائق کی جانچ(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) ہوئی اور سرکاری تردیدیں(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) آئیں. یہ اس رسائی کی علامت ہے جو گزشتہ دو سال میں ہماری روکی گئی کسی بھی رائے سازی مہم سے زیادہ تھی. مہم نے پیرو میں ایک جعلی خبر پھیلانے کا دعویٰ کیا، جس نے یوکرین اور پولینڈ کے درمیان عوامی سطح کی کشیدگی کو بھی ہوا دی.
کارندوں نے ChatGPT کو بنیادی طور پر ایک نامعلوم بالا افسر کے لیے داخلی رپورٹیں لکھنے اور تازہ کرنے میں استعمال کیا. ان باقاعدہ رپورٹوں میں لاطینی امریکہ بھر میں خفیہ رائے سازی مہمات چلانے کی کوششوں کی تفصیل تھی. ان میں کام کے تین اہم شعبے شامل تھے: یوکرین کو بدنام کرنا اور یوکرینی مسلح افواج کی بھرتی کو نقصان پہنچانا؛ بعض ممالک، خصوصاً بولیویا اور ارجنٹائن، کی داخلی سیاست میں مداخلت؛ اور ایس آر سی کا انتظام. بیشتر معاملات میں ہم نے بدنیت عناصر کو مہمات کا مواد بنانے کے لیے اپنے ماڈلز استعمال کرتے نہیں دیکھا، صرف ان کی رپورٹنگ کے لیے دیکھا (چند استثنائی مثالیں نیچے دی گئی ہیں).
رپورٹوں میں حربوں کی بھرپور تفصیل تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مہم نے یوکرین اور بعض قومی رہنماؤں، خصوصاً ارجنٹائن، بولیویا اور ایکواڈور کے صدور کو کیسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی. بعض میں مقامی لوگوں کو دھوکا دے کر ایسے کام کروانے کی کوششیں بیان تھیں جنہیں کارندے اپنے مقاصد کے لیے ہتھیار بنا سکیں؛ دیگر میں جعلی “افشا شدہ معلومات” کا ذکر تھا جنہیں پھیلانے کا کارندوں نے دعویٰ کیا.
دو معاملات میں شواہد کارندوں کا تعلق “پولیٹولوجی” کے بارے میں شائع شدہ رپورٹوں سے جوڑتے ہیں. کارندوں نے بتایا کہ 2024 میں انہوں نے ارجنٹائن کے صدر خاویئر میلی کو نشانہ بنانے والی دو مہمات چلائیں. پہلے، ان کے بقول انہوں نے یہ جھوٹی خبر پھیلائی کہ میلی نے اپنے کتوں کے لیے کارٹیئر کے جواہرات جڑے پٹے خریدے تھے. دوسرے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ بیونس آئرس میں میلی مخالف دیواری نعرے لکھنے کے لیے مقامی افراد کو رقم دی. افشا شدہ دستاویزات کی بنیاد پر ان دونوں دعووں کو عوامی طور پر(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) “پولیٹولوجی” اور “لا کومپانیا” سے منسوب کیا گیا ہے(نئی ونڈو میں کھلتا ہے).
مزید بہت سا جعلی مواد ایسا ہے جس کا اس سے پہلے روسی رائے سازی کی مہمات سے تعلق سامنے نہیں آیا تھا. مثلاً، کارندوں نے دعویٰ کیا کہ مئی 2026 میں انہوں نے ایک جعلی ای میل پتہ بنایا، جسے پیرو کے شہر لیما میں علاقائی نظامتِ تعلیم کا پتہ ظاہر کیا گیا. اس کے ذریعے انہوں نے ضلع کے اسکولوں کو ہدایت دی کہ ثقافتی اور لسانی تنوع کے قومی دن (21 مئی) پر یوکرین کے لیے مخصوص تقریبات منعقد کریں. ای میلز میں دیگر شخصیات کے ساتھ بیسویں صدی کے متنازع یوکرینی قوم پرست اسٹیپن باندیرا کا ذکر کرنے کی واضح ہدایت تھی. بعض یوکرینی انہیں جدوجہدِ آزادی کی شخصیت مانتے ہیں، مگر روس اور پولینڈ میں انہیں فسطائیت، جنگ کے دوران دشمن سے تعاون اور مظالم سے جوڑا جاتا ہے. کارندوں کے مطابق، بعض اسکولوں نے اس جعلی ای میل پتے پر جواب دے کر تصدیق کی کہ انہوں نے ایسی تقریبات منعقد کی تھیں، اور تصاویر بھی بھیجیں.
پھر کارندوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پیرو اور پولینڈ، دونوں کے ذرائع ابلاغ میں ان تقریبات کی خبریں شائع کروائیں. ساتھ ہی یہ الزام بھی پھیلایا کہ یوکرین انتہائی قوم پرستانہ نظریات “برآمد” کر رہا ہے، جس سے غم و غصہ پیدا ہوا. عوامی ذرائع میں تلاش سے اس دعوے سے مطابقت رکھنے والی خبریں پیرو(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) اور(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) پولینڈ(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) کے اخبارات(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) اور ہنگری(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) کے ایک انگریزی اشاعتی ادارے میں ملیں (ان میں سے کچھ مضامین بعد میں حذف کر دیے گئے). کچھ(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) مضامین(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) میں یورپی پارلیمان کے ایک پولش رکن کا ردعمل شامل تھا. انہوں نے تجویز دی کہ “پولینڈ دشمنی” ظاہر کرنے والوں کو پولینڈ میں ناپسندیدہ شخص قرار دیا جائے. یوں اس روسی جعل سازی نے یوکرینیوں اور پولش باشندوں کے درمیان تاریخی کشیدگی سے فائدہ بھی اٹھایا اور اسے مزید ہوا بھی دی.
اسی طرح جون میں کارندوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایک اور جعلی ای میل پتے سے ایکواڈور کے اسکولوں کو دھوکا دے کر ایسی تقریب منعقد کروائی جس میں صدر ڈینیل نوبوا اور نجی فوجی ٹھیکے دار کمپنی بلیک واٹر کے سابق سربراہ ایرک پرنس سے وفاداری کا حلف لیا گیا. کارندوں کا دعویٰ تھا کہ اس واقعے سے ایکواڈور میں غم و غصہ پیدا ہوا اور حکومت پر اس جعل سازی کی تردید کا دباؤ پڑا، جس کے نتیجے میں یہ بات پورے ملک تک پہنچ گئی. اس بار بھی عوامی ذرائع کی تحقیق میں ایکواڈور(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) کے اخبارات(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) میں اس دعوے سے بہت ملتی جلتی خبری(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) رپورٹس(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) ملیں، حتیٰ کہ ایکواڈور کی وزیرِ تعلیم کی جانب سے تفصیلی تردید(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) بھی ملی.
کارندوں نے اپنی جھوٹی خبروں کو معتبر بنانے کے لیے کئی طریقے اپنائے. اپنی داخلی رپورٹوں کے مطابق، انہوں نے مارچ میں ایکواڈور کو نشانہ بنانے کے لیے دو مختلف جعل سازیاں پھیلائیں. ایک میں ایکواڈور میں یوکرین کے قونصل سے منسوب جعلی آڈیو استعمال کی گئی، جس میں مبینہ طور پر انہوں نے ایکواڈور کے باشندوں کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کیے تھے. عوامی ذرائع پر مبنی ہماری تحقیقات میں ٹک ٹاک کی ایک پوسٹ ملی جو عین اسی دعوے سے مطابقت رکھتی تھی؛ بظاہر اس پر لوگوں کی بہت کم توجہ گئی. دوسری میں ایک جعلی ویڈیو کا ذکر تھا جو ایک حقیقی خبری چینل کے نشان کے ساتھ ایکس اور ٹک ٹاک پر پھیلائی گئی. اس میں الزام تھا کہ نوبوا کی حکومت یوکرین میں لڑنے کے لیے نوجوان مردوں کو بھرتی کر رہی ہے. ایکواڈور میں حقائق کی جانچ کرنے والوں(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) نے اپریل کے اوائل میں ایسی ہی ایک مہم کا ذکر کیا.

8 اپریل 2026 کو شائع کردہ ٹک ٹاک ویڈیو، جس میں یوکرینی قونصل سے منسوب جعلی آڈیو شامل ہے. اس مہم نے اسے بنانے کا دعویٰ کیا تھا.
ایک اور داخلی رپورٹ میں اس جعلی خبر کا ذکر تھا جو انہوں نے مئی کے آخر میں، حکومت مخالف احتجاج کے عروج پر، بولیویا میں پھیلائی تھی. کارندوں نے صاف طور پر کہا کہ اس مہم کا مقصد احتجاج سے پیدا ہونے والے بحران کو مزید سنگین بنانا تھا. مہم میں سرکاری آبی کمپنی، ای پی ایس اے ایس، کے ایک ملازم سے منسوب جعلی صوتی ریکارڈنگ استعمال ہوئی. اس میں کہا گیا کہ حکومت انتظامی دارالحکومت لا پاز کو پانی کی فراہمی بند کرنے اور ہنگامی حالت نافذ کرنے والی ہے. عوامی ذرائع کی ہماری تحقیق میں اسی دعوے کو غلط ثابت کرنے والی رپورٹ(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) اور ای پی ایس اے ایس کی طرف سے سرکاری تردید(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) ملی.
دیگر داخلی رپورٹوں میں ایسی جعل سازیوں کا ذکر تھا جن کی ہم عوامی ذرائع سے تصدیق نہیں کر سکے. ممکن ہے وہ پہلے ہی ہٹا دی گئی ہوں یا پھیل نہ پائی ہوں. مثلاً، کارندوں نے دعویٰ کیا کہ جنوری میں انہوں نے ایک خبر پھیلائی جس میں الزام تھا کہ یوکرینی سفارت خانے کے نمائندے برازیل کی ایک سماجی ذرائع ابلاغ کی مؤثر شخصیت اور ماڈل کو انسانی اسمگلنگ کے ذریعے یوکرین لے گئے، جہاں کیئو میں انہیں قتل کر دیا گیا. جون میں انہوں نے بولیویا میں ایک اور جعلی آڈیو پھیلانے کا دعویٰ کیا. اس بار اسے بولیویا کے مرکزی بینک کے ایک ملازم سے منسوب کیا گیا، جو خبردار کر رہا تھا کہ بینک نقد رقم نکالنے پر حد لگانے والا ہے. انہوں نے ملک کے ہائیڈروکاربن ادارے سے منسوب ایک جعلی خط پھیلانے کا بھی دعویٰ کیا، جس میں نجی گاڑیوں کو ایندھن کی فروخت محدود کرنے کی تنبیہ تھی.
دیگر رپورٹوں میں کارندوں نے ہمارے ماڈلز سے ہدف بنائے گئے ممالک کے ایسے واقعات تلاش کرنے میں مدد مانگی جن کا سہرا وہ اپنے سر باندھ سکیں، چاہے ان میں ان کا کوئی کردار نہ رہا ہو. مثلاً، ارجنٹائن میں کارندوں نے دعویٰ کیا کہ ارجنٹائن کے وزیرِ خارجہ نے فاک لینڈ / مالویناس جزائر پر اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی کے اجلاس میں ان کی مہم کا حوالہ دیا تھا. کارندوں نے یہ دلائل پھیلانے کا سہرا اپنے سر لیا کہ ان جزائر پر حقِ خود ارادیت کا اصول لاگو نہیں ہوتا اور برطانیہ نے وہاں ضرورت سے کہیں زیادہ فوج تعینات کر رکھی ہے. حقیقت میں یہ دونوں دلائل کئی(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) برسوں(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) سے ارجنٹائن کے سرکاری مؤقف کا حصہ ہیں. اسی طرح، جون میں برازیلی ذرائع ابلاغ نے ایک برازیلی شہری کے بارے میں خبر دی(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) جو فوج میں شامل ہونے یوکرین گیا تھا، روسی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہوا، اور پھر ٹیلی ویژن پر بیان میں دعویٰ کیا کہ اسے دھوکا دے کر لڑائی میں اتارا گیا تھا. ChatGPT استعمال کرنے والے کارندوں نے یہ دعویٰ کرنے کی کوشش کی کہ اس رپورٹ نے ان کی مہم کا پیغام دہرایا ہے؛ درحقیقت، اس میں خود قیدی کی ویڈیو کا حوالہ دیا گیا تھا(نئی ونڈو میں کھلتا ہے). اس سے لگتا ہے کہ کارندے بیرونی لوگوں کے بجائے اپنے ہی آجروں کو متاثر کرنے کی مہم چلانے کی کوشش کر رہے تھے.
کارندوں کی بعض رپورٹوں میں سماجی تحقیقی مرکز نامی ایک خود ساختہ “تحقیقی پلیٹ فارم” کا ذکر تھا (روسی نام کا مطلب: مرکز برائے سماجیاتی تحقیق). اس مرکز، یعنی ایس آر سی، کی ویب سائٹ کے مطابق اس کی توجہ لاطینی امریکہ میں آباد ہندوستانی تارکینِ وطن اور ہندوستان کے اس خطے کے ممالک سے تعلقات پر ہے.
داخلی رپورٹوں سے اشارہ ملتا تھا کہ کارندے اس تحقیقی ادارے کے ساتھ محض کام نہیں کر رہے تھے، بلکہ اسے چلا رہے تھے. مثلاً ان میں بھرتی اور برطرفی کے فیصلوں، تنخواہوں کے درجات، عملے کی منصوبہ بندی اور جاری تحقیقی منصوبوں کا ذکر تھا. اہم بات یہ ہے کہ ان میں یہ بھی کہا گیا کہ کارندوں نے مہم کی سماجی ذرائع ابلاغ کی سرگرمیاں چلانے اور لاطینی امریکہ میں مقامی عملے سے رابطے کے لیے “میا کلارک” نامی فرضی شناخت بنائی تھی. دستیاب شواہد سے لگتا ہے کہ ان مقامی ملازمین کو بالکل علم نہیں تھا کہ وہ ایک روسی مہم کے لیے کام کر رہے ہیں، اور انہوں نے نیک نیتی سے تحقیقی کام کیے. بے خبر لوگوں کو واسطے کے طور پر استعمال کرنے کا یہ طریقہ پہلے کی روسی مہم “پیس ڈیٹا” سے بہت ملتا ہے، جس کا تعلق بھی پریگوژن کے حلقے سے تھا اور جسے میٹا نے 2020 میں بے نقاب کیا(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) تھا.
روسی کارندوں کی رپورٹوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ لاطینی امریکہ میں ان کے مقامی عملے نے خطے بھر کے ماہرین اور مبصرین سے انٹرویو کیے، پھر نتائج کی بنیاد پر تحقیقی مقالے لکھے. موضوعات میں برکس گروپ کے بارے میں رائے عامہ کے وسیع تجزیے سے لے کر صدور جائیر بولسونارو اور لوئز اناسیو لولا دا سلوا کے ادوار میں برازیلی معیشت کے تفصیلی موازنے تک شامل تھے. کبھی روسی کارندوں نے تحقیقی منصوبوں کی اشاعت سے پہلے ہی ان کی پیش رفت کی رپورٹیں تیار کیں، جو تیاری کے عمل میں ان کی قریبی شمولیت کی علامت ہے. ہمیں ایس آر سی کی ویب سائٹ پر 60 سے خاصے زیادہ مضامین ملے، جن میں سے بڑی اکثریت اصل تحریریں معلوم ہوتی تھی. یہ بات ڈارک کلارک کو روس سے چلنے والی اس مہم سے الگ کرتی ہے جسے ہم نے حال ہی میں بے نقاب کیا تھا. وہ بھی آڑ کے طور پر ایک تحقیقی ادارہ چلاتی تھی، مگر اس کا بیشتر مواد سرقہ شدہ تھا. اس سے لگتا ہے کہ یہاں ایک زیادہ دیرپا پردہ پوش ادارہ بنانے کا ارادہ تھا، جس کے رابطے پورے لاطینی امریکہ میں ہوں.
روسی کارندوں نے دعویٰ کیا کہ ایس آر سی کے کام کی تشہیر کے لیے انہوں نے سماجی ذرائع ابلاغ کے اکاؤنٹس اور صفحات کا ایک جال بنانے کی کوشش کی تھی. ان کی رپورٹوں کے مطابق، یہ سرگرمیاں تب مشکلات کا شکار ہوئیں جب دنیا کے مختلف حصوں میں موجود کارندوں نے ایک ہی اکاؤنٹس تک رسائی کی کوشش کی، جس سے اکاؤنٹس پر پابندیاں لگ گئیں. عوامی ریکارڈ میں اس کے آثار ملتے ہیں: مثلاً ایکس پر ایس آر سی کے مرکزی اکاؤنٹ کی شفافیت کی ترتیبات میں مقام جرمنی تھا (ممکنہ طور پر وی پی این کے استعمال کی وجہ سے)، مگر رابطہ روسی وفاق کے ایپ اسٹور کے ذریعے تھا. اس کے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ کی شفافیت کی ترتیبات میں منتظم کا مقام وینزویلا تھا. ہمیں ایس آر سی کی شناخت والے فیس بک کے جو تین اکاؤنٹس ملے، ان میں سے کسی کے پیروکار اتنے نہیں تھے کہ منتظم کے مقام کی ترتیبات ظاہر ہوتیں.

بائیں طرف، سماجی تحقیقی مرکز سے منسلک ایکس اکاؤنٹ. شفافیت کی اس ترتیب پر غور کریں جو روسی وفاق کے ایپ اسٹور کے ذریعے اکاؤنٹ کے رابطے کو ظاہر کرتی ہے. دائیں طرف، ایس آر سی کا انسٹاگرام اکاؤنٹ: وینزویلا کے مقام پر غور کریں.
کارندوں نے لنکڈ اِن پر خاص مشکلات کی اطلاع دی. ان کے بقول انہوں نے ایس آر سی کی نمائندگی کے لیے ایک صریحاً جعلی اکاؤنٹ بنایا، مگر پھر اس کے رابطوں کا حلقہ بنانے میں مشکل پیش آئی. ان کی رپورٹوں کے مطابق حل یہ تھا کہ مزید جعلی اکاؤنٹس بنا کر پہلے اکاؤنٹ کے پیروکار بنائے جائیں، تاکہ وہ زیادہ معتبر نظر آئے. 17 اگست تک اسی سماجی تحقیقی مرکز کی شناخت والے ایک لنکڈ اِن اکاؤنٹ کے 961 پیروکار تھے. اس نے 200 تا 500 اہلکاروں کا دعویٰ کیا، مگر صرف دو ملازمین درج کیے تھے.
کبھی کبھار رپورٹیں تازہ کرنے کے علاوہ کارندوں نے ہمارے ماڈل سے اپنی مہمات کے لیے تحریروں کی منصوبہ بندی اور تیاری میں بھی مدد مانگی: مثلاً یہ یقینی بنانے کے لیے کہ ان کے جعلی مواد میں مختلف ممالک کے مطابق درست لہجہ، الفاظ اور ادارہ جاتی انداز استعمال ہو. یہ مجموعی کام کا نسبتاً چھوٹا حصہ تھا، شاید اس لیے کہ مہم میں بظاہر لاطینی امریکہ کا کم از کم ایک ایسا شخص شامل تھا جس کی مادری زبان ہسپانوی تھی، اس لیے مصنوعی ذہانت سے لسانی مدد کی ضرورت کم تھی.
مثلاً ایک موقع پر روسی بولنے والے ایک کارندے نے ماڈل سے روسی میں ایسا خط لکھنے میں مدد مانگی جو پاناما میں یوکرین کے اعزازی قونصل کو بدعنوانی میں ملوث دکھائے. پھر ہسپانوی بولنے والے کارندے نے ماڈل سے خط کا ہسپانوی ترجمہ اور اس کے ساتھ چلنے والی آڈیو کا مسودہ تیار کروایا. خط کے متن سے مطابقت رکھنے والی ایک تصویر، کارندے کے مسودے سے ملتی ہوئی پسِ پردہ آواز کے ساتھ، ٹک ٹاک پر ایک ایسے اکاؤنٹ نے شائع کی جو خود کو خبری ادارہ ظاہر کرتا تھا، مگر پاناما کے ٹی وی این نوتیسیاس(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) کا نشان استعمال کر رہا تھا. اس ٹک ٹاک چینل کا صرف ایک پیروکار تھا، اور اس جعل سازی کو شائع کرنے کے بعد اس نے پوسٹ کرنا بند کر دیا.

ٹک ٹاک پوسٹ میں دکھایا گیا وہ خط جس کا متن اس مہم نے تیار کیا تھا. ساتھ چلنے والی پسِ پردہ آواز کا مسودہ بھی اسی مہم نے تیار کیا تھا.
ایک اور موقع پر روس میں موجود ہسپانوی بولنے والے کارندے نے ماڈل کو روسی زبان کا مسودہ دیا، جس میں دعویٰ تھا کہ نوبوا نے ایکواڈور کے غریب لوگوں کی توہین کی ہے، اور اسے ایکواڈور کی ہسپانوی میں ترجمہ کرنے کو کہا. تیسرے موقع پر، مارچ میں، اسی صارف نے ماڈل سے ہسپانوی زبان کے ایک معاہدے کے مسودے کی تصحیح کروائی. یہ “انٹرنیشنل سکیورٹی سلوشنز ایف زیڈ ای” نامی کمپنی اور ایکواڈور کے ایک فرد کے درمیان تھا، اور بظاہر یوکرین میں بنیادی ڈھانچے کی خدمات فراہم کرنے کے لیے تھا. صارف کے سوالات زبان اور ترتیب کو بہتر بنانے پر تھے، جن میں یہ سوال بھی تھا کہ کن الفاظ کو جلی لکھنا چاہیے.
عبارت حتمی ہونے کے بعد معاہدے سے متعلق صارف کی ہدایات ختم ہو گئیں. تاہم عوامی ذرائع کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں اس “معاہدے” کی تصویر سماجی ذرائع ابلاغ پر پھیلائی گئی(نئی ونڈو میں کھلتا ہے). اسے اس دعوے کو تقویت دینے کے لیے استعمال کیا گیا کہ نوبوا کی حکومت نے ایک پردہ پوش کمپنی کے ساتھ مل کر ایکواڈور کے باشندوں کو دھوکے سے یوکرینی فوج میں بھرتی کروایا تھا. یہ جعل سازی اتنی پھیلی کہ اپریل کے اوائل میں اس کی حقیقت جانچی گئی(نئی ونڈو میں کھلتا ہے): جانچ کرنے والوں نے نتیجہ نکالا کہ کمپنی “ایکواڈور کے نگران ادارۂ کمپنیوں، تمسکات اور بیمہ کے رجسٹر میں درج نہیں ہے”.
اس مہم کے اثرات کا جائزہ خاص احتیاط سے لینا ضروری ہے. جیسا کہ اوپر بتایا گیا، کارندوں کا ایک بنیادی طریقہ ایسی سرگرمیوں کا سہرا اپنے سر لینا تھا جن کا ان کی مہم سے کوئی تعلق نہیں تھا. اس لیے داخلی رپورٹوں میں اپنے اثرات کے بارے میں ان کے دعووں کو بلا تحقیق درست نہیں مانا جا سکتا. اسی طرح، جن جھوٹی خبروں کو پھیلانے کا انہوں نے دعویٰ کیا، ان میں سے بعض عوامی ذرائع کی تحقیق میں نہیں ملیں. ممکن ہے وہ غیر عوامی ذرائع میں پھیلائی گئی ہوں، پہلے ہی ہٹائی جا چکی ہوں، یا حقیقت میں شائع ہی نہ ہوئی ہوں.
تاہم، عوامی ذرائع کے شواہد سے ہم ان کے بعض دعووں کی تصدیق کر سکے. مہم نے جن جعل سازیوں کو پھیلانے کا دعویٰ کیا، ان میں سے بعض پر بعد میں حقائق جانچنے والوں نے رپورٹیں دیں اور حکومتوں نے تردید کی. اس سے لگتا ہے کہ وہ اتنی پھیل گئی تھیں کہ جواب دینا ضروری سمجھا گیا. دیگر معاملات میں ہمیں آن لائن ایسا مواد ملا جو اس مہم کے تیار کردہ مواد سے بہت ملتا تھا. سب سے اہم یہ کہ مہم نے پیرو کے ایک اسکول کو دھوکا دے کر باندیرا کو پیش کرنے والی تقریب منعقد کروانے کا دعویٰ کیا تھا. بعد میں اس کے بارے میں لاطینی امریکہ اور یورپ، دونوں میں خبریں شائع ہوئیں، اور بظاہر یورپی پارلیمان کے کم از کم ایک پولش رکن نے بھی اس پر تبصرہ کیا.
رائے سازی کی مہمات کو 1 (کم ترین) سے 6 (زیادہ ترین) تک درجہ دینے والے دائرۂ رسائی کے پیمانے(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) کے مطابق ہم اس مہم کو زمرہ 5 میں رکھیں گے. شواہد سے لگتا ہے کہ اس کے نتیجے میں کئی ممالک کے سیاست دانوں نے عوامی تبصرے کیے. اپنی رپورٹنگ شروع کرنے کے بعد یہ زمرہ 5 کی پہلی مہم ہے جسے ہم نے روکا ہے.
ایران سے چلنے والی مہم، جو آن لائن خبری اداروں میں فریب پر مبنی مصنفانہ ناموں سے طویل مضامین شائع کرواتی تھی.
ہم نے ایران سے چلنے والے ChatGPT اکاؤنٹس کے ایک گروہ پر پابندی لگائی. وہ فارسی میں ہدایات دیتے تھے اور فارسی و انگریزی میں مواد تیار کرواتے تھے. ان عناصر نے ChatGPT تک رسائی کے لیے وی پی این استعمال کرکے اپنا مقام چھپایا.
مہم نے ہمارے ماڈلز کو طویل مضامین اور مدیران کو بھیجی جانے والی اشاعتی تجاویز بہتر بنانے، سماجی ذرائع ابلاغ کے تبصرے تیار کرنے اور داخلی رپورٹیں سنوارنے کے لیے استعمال کیا. کارندوں نے اپنے مضامین کی اشاعت کی تجاویز سات مختلف مصنفانہ ناموں سے بھیجیں، اس لیے ہم نے ان کی مہم کو “جعلی ناموں سے تحریریں” کہا ہے. طویل مضامین کی توجہ امریکہ اور ایران کے تنازعے پر تھی. زیادہ تر تبصرے بھی اسی تنازعے سے متعلق تھے؛ کچھ امریکی سیاست کے بارے میں تھے، عموماً تنازعے کے وسیع تر تناظر میں.
ان کے کام کے اہم شعبوں کے ظاہری اثرات میں نمایاں فرق تھا. ہمیں دنیا بھر کے تقریباً ایک درجن آن لائن اشاعتی اداروں میں مہم کے مصنفانہ ناموں سے شائع یا دوبارہ شائع ہونے والے تقریباً 100 مضامین ملے. یہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ادارے تھے، جن کی توجہ عموماً بین الاقوامی امور، جغرافیائی سیاست اور مشرق وسطیٰ کے واقعات پر تھی. اس کے برعکس، سماجی ذرائع ابلاغ کے کسی تبصرے پر بھی پسندیدگی، شیئر کیے جانے یا مزید جوابات کی صورت میں قابلِ ذکر ردعمل نظر نہیں آیا. درحقیقت، کارندوں کی داخلی رپورٹوں میں سماجی ذرائع ابلاغ پر اثرات ناپنے کے لیے گمراہ کن حساب استعمال ہوا، ممکنہ طور پر ان کی کارکردگی بڑھا چڑھا کر دکھانے کے لیے.
مجموعی سرگرمی ایسی تجارتی تنظیم کے کام سے مطابقت رکھتی تھی جو معاوضے پر رائے سازی کی مہم چلاتی ہو، مگر ہم اس میں ملوث مخصوص تنظیم کی شناخت نہیں کر سکے. ہم نے اس معاملے کی معلومات متعلقہ حکام کے ساتھ شیئر کی ہیں.
اس مہم کی سب سے زیادہ رسائی والی سرگرمی میں ChatGPT سے امریکہ اور ایران کے تنازعے کی جغرافیائی سیاست پر انگریزی کے طویل مضامین کا جائزہ لینے اور انہیں بہتر بنانے کو کہا گیا. عام ہدایات میں ماڈل سے کہا جاتا کہ انگریزی مسودے کو کسی مخصوص آن لائن اشاعتی ادارے کے معیار پر پرکھے، اور اس کے مطابق بنانے کے لیے ترامیم تجویز کرے. ترامیم منظور کرنے کے بعد کارندے ماڈل سے ایک ای میل تیار کرواتے جس کے ذریعے متعلقہ آن لائن ادارے کے مدیر کو مضمون کی اشاعت کی تجویز بھیج سکیں.
یہ تجاویز سات مختلف جعلی مصنفانہ ناموں سے لکھی گئیں: ایروِن بی ہوسکنز، نوح لیمنگٹن، صوفیہ گونزالیز، مائیکل ہیریسن، ایریکا فیوزیئر، جینی ولیمز اور ایلس جانسن. بعض مضامین کے ساتھ آن لائن شائع کردہ تعارفوں کے مطابق ہر فرضی شناخت خود کو مغربی صحافی ظاہر کرتی تھی، عموماً امریکی، البتہ نوح لیمنگٹن کے تعارف میں نیوزی لینڈ میں ہونے کا دعویٰ تھا. اکثر ان کی توجہ بین الاقوامی سیاست، مشرق وسطیٰ، انسانی حقوق یا تنازعات پر بتائی گئی تھی. ایک فرضی شناخت، “مائیکل ہیریسن”، کے لیے کارندوں نے ماڈل سے تعارف بھی لکھوایا. (قابلِ ذکر ہے کہ مارچ میں میٹا نے ایک ایرانی رائے سازی مہم کو روکا(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) تھا، جس میں “مائیکل ہیریسن” نامی فرضی صحافی بھی شامل تھا.)
ان میں سے بعض فرضی شناختوں کو معتبر دکھانے کے لیے کئی سماجی ذرائع ابلاغ پر اکاؤنٹس بھی بنائے گئے تھے. مثلاً مائیکل ہیریسن کی شناخت کے لیے میڈیم، ایکس اور فیس بک پر اکاؤنٹس موجود تھے. ایروِن بی ہوسکنز کی فرضی شناخت کے ایکس، فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز پر اکاؤنٹس تھے. اس شناخت کے تعارف میں “ایک امریکی آزاد قلم کار” ہونے کا دعویٰ تھا، مگر سماجی ذرائع ابلاغ کی شفافیت کی ترتیبات ان اکاؤنٹس کا مقام ایران دکھاتی تھیں.

اوپر، ایروِن ہوسکنز کی فرضی شناخت کا انسٹاگرام تعارف. نیچے بائیں، ایکس اکاؤنٹ کی شفافیت کی معلومات، جن میں مغربی ایشیا کی اینڈرائڈ ایپ کا استعمال دکھایا گیا ہے. نیچے دائیں، انسٹاگرام اکاؤنٹ کی شفافیت کی معلومات، جن میں مقام ایران ہے. میٹا نے اگست میں انسٹاگرام اکاؤنٹ پر پابندی لگا دی.
عوامی ذرائع سے تحقیق کے طریقے استعمال کرتے ہوئے ہمیں ایک درجن سے زیادہ مختلف اشاعتی اداروں میں تقریباً 100 ایسے مضامین ملے جو کارندوں کے کسی نہ کسی مصنفانہ نام سے شائع ہوئے تھے. ان اشاعتی اداروں کی توجہ عموماً بین الاقوامی امور، جغرافیائی سیاست اور مشرق وسطیٰ کے واقعات پر تھی، کبھی جنگ مخالف یا ترقی پسند نقطۂ نظر سے. ہمیں ملنے والا سب سے پرانا مضمون جولائی 2025 اور تازہ ترین اکتوبر 2026 میں شائع ہوا تھا. امریکہ اور ایران کا تنازع شروع ہونے کے بعد مضامین کی اشاعت بہت بڑھ گئی.

مصنف اور موضوع کے لحاظ سے مضامین کی زمانی ترتیب، جولائی 2025 تا ستمبر 2026. مارچ 2026 سے امریکہ اور ایران کے تعلقات پر مضامین کی کثرت پر غور کریں.

فروری سے جولائی 2026 کے درمیان مختلف آن لائن اشاعتی اداروں میں اس مہم سے منسلک مصنفانہ ناموں کے تحت شائع مضامین کی چند سرخیاں.
پھر کم از کم بعض مضامین کی تشہیر متعلقہ اشاعتی اداروں کے سماجی ذرائع ابلاغ کے اکاؤنٹس نے کی، جس سے ایرانی کارندوں کو ممکنہ طور پر ایسے قارئین تک پہنچنے کا راستہ ملا جن تک وہ ورنہ نہیں پہنچ پاتے.
مضامین کے ساتھ ساتھ، بدنیت عناصر نے ChatGPT سے جغرافیائی سیاسی یا سیاسی موضوعات پر انگریزی یا فارسی میں تبصروں کے مجموعے تیار کروائے. ان کا عام طریقہ یہ تھا کہ سماجی ذرائع ابلاغ کی کسی پوسٹ کا متن یا اسکرین شاٹ دے کر ماڈل سے ایسے جوابات کا مجموعہ مانگتے جو ان کے مجموعی مقاصد سے مطابقت رکھتا ہو. پھر یہ جوابات آن لائن شائع کیے جاتے، اکثر چند منٹوں کے وقفے سے. کارندوں کی داخلی رپورٹوں میں انسانوں اور خودکار نظام، دونوں کے ذریعے پوسٹ کرنے کا ذکر تھا؛ ہمارے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ اس خودکاری میں ہمارے ماڈلز کی مدد لی گئی ہو.

اس مہم کی تیار کردہ جولائی میں شائع ٹویٹس؛ بائیں انگریزی اور دائیں فارسی میں. انگریزی تبصرے ایک انگریزی ٹویٹ کے جواب میں تھے جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ امریکہ ایران پر “بڑے پیمانے کے حملے” کی تیاری کر رہا ہے. اس تصویر کے تمام تبصرے 10 منٹ کے اندر شائع ہوئے. فارسی تبصرے ایران پر امریکی حملوں سے متعلق فارسی ٹویٹ کے جواب میں تھے اور 13 منٹ کے اندر شائع ہوئے.
اجتماعی تبصرہ نویسی کی کچھ سرگرمی میں مہم کے اپنے خبری مضامین سے متعلق سماجی ذرائع ابلاغ کی پوسٹوں کے جوابات تیار کیے گئے. اس کے لیے کارندے اپنے مضامین کی تشہیر کرنے والی پوسٹوں کے اسکرین شاٹس دیتے اور پھر تعریف یا تائید میں تبصرے تیار کرواتے، غالباً مضامین کو زیادہ مقبول دکھانے کے لیے.

امریکہ کے ایک مقامی خبری فیس بک صفحے کی پوسٹ، جس میں مہم کا تیار کردہ مضمون شیئر کیا گیا ہے، اور اس پوسٹ پر اسی مہم کے تیار کردہ تبصرے.
تبصروں کے بیشتر مجموعوں کا عمومی موضوع ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تنازع تھا. صارفین نے میزائل حملوں، جنگ بندیوں اور سفارتی چالوں جیسے موضوعات پر تبصرے مانگے. انہوں نے خاص طور پر کہا کہ امریکہ کو جارح، اسرائیل کو امریکہ کا ناقابلِ اعتماد اتحادی، اور ایران کو مزاحمت کرنے والے مگر ثابت قدم مظلوم کے طور پر پیش کیا جائے. کارندوں نے برطانیہ میں قائم سیٹلائٹ نیٹ ورک ایران انٹرنیشنل کی پوسٹوں کے جواب میں خاصی بڑی تعداد میں تبصرے بنوائے. ایرانی حکومت کے اس ناقد ادارے کے خلاف فارسی میں معاندانہ جوابات کے دو درجن سے زیادہ مجموعے تیار کیے گئے. چند مجموعوں میں امریکی سیاسی مسائل سے متعلق سماجی ذرائع ابلاغ کی پوسٹوں کے جوابات بنائے گئے، عموماً تنازع کے وسیع تر تناظر ہی میں.

امریکی سیاست سے متعلق پوسٹوں کے جواب میں اس مہم کے تیار کردہ انسٹاگرام تبصرے.
ہمیں ان میں سے چند جوابات آن لائن شائع ہوئے ملے؛ بہت سے دوسرے عوامی ذرائع میں تلاش کے دوران نہیں ملے. ممکن ہے وہ شائع ہی نہ ہوئے ہوں، یا ایسے اکاؤنٹس نے شائع کیے ہوں جو پہلے ہی ہٹائے جا چکے تھے. (مثلاً تین فرضی صحافیوں، ایریکا فیوزیئر، ایلس جانسن اور جینی ولیمز، نے اپنے شائع شدہ تعارف میں ایکس اکاؤنٹس کے نام درج کیے تھے: اگست 2026 تک سب معطل ہو چکے تھے.) آن لائن تبصرے شائع کرنے والے بعض اکاؤنٹس کے نام مغربی لگتے تھے، مگر ان کا مقام ایران دکھایا گیا تھا.

اوپر دکھائے گئے تبصرے کرنے والے انسٹاگرام اکاؤنٹس کی شفافیت کی ترتیبات، جو ان کا مقام ایران دکھاتی ہیں.
جہاں یہ جوابات شائع ہوئے ملے، وہاں وہ عموماً متعلقہ پوسٹ کے کل تبصروں کا چھوٹا حصہ تھے. اس سے لگتا ہے کہ حقیقی ردعمل کے درمیان کارندوں کی آواز غالب نہیں تھی. ان پر قابلِ ذکر ردعمل بھی نظر نہیں آیا: درحقیقت، مہم کے جوابات کو پسند کرنے والے کئی اکاؤنٹس خود اسی مہم سے منسلک تھے. ہم نے اس معاملے کی معلومات اپنے شعبے کے شراکت داروں کے ساتھ شیئر کی ہیں، جو لوگوں کے ردعمل کا جامع جائزہ لینے کی بہتر پوزیشن میں ہیں.
اپنی سرگرمیوں کو زیادہ مقبول دکھانے کی کوشش صرف عوام کے لیے شائع کردہ پوسٹوں تک محدود نہیں تھی. مواد تیار کرنے کے ساتھ کارندے کبھی کبھی ChatGPT سے ایسی تحریروں کو بہتر بنانے کو بھی کہتے جو بظاہر ان کی سماجی ذرائع ابلاغ کی مہم کی داخلی رپورٹیں تھیں. عموماً اس میں ماڈل کو اعداد و شمار دے کر انہیں عمدہ پیش کش کی صورت میں ڈھالنے کو کہا جاتا تھا.
یہ ہماری روکی گئی پہلی مہم نہیں ہے جس نے اپنی(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) کارکردگی کا خود جائزہ(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) لکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کی. ایرانی کارندوں کی اپنی کارکردگی خود جانچنے کی کوششوں میں سب سے نمایاں چیز ان کا اختیار کردہ طریقہ تھا. “اثر” ناپنے کا ان کا بنیادی معیار ان پوسٹوں کے مشاہدات کی تعداد تھا جن کے انہوں نے جواب دیے تھے (اصل جوابات کے مشاہدات کی تعداد نہیں). یہ گنتی جوابات شائع ہونے سے پہلے اور ان کے بعد کسی غیر متعین وقفے پر کی جاتی تھی. اس حساب میں ان مشاہدات کا لحاظ نہیں رکھا گیا جو دوسرے عوامل، مثلاً اصل پوسٹوں کی مقبولیت یا دیگر تبصروں، کی وجہ سے ہو سکتے تھے. یوں مہم کے اثرات کے اعداد و شمار بہت بڑھا چڑھا کر پیش ہوئے. اس سے لگتا ہے کہ کارندے یا تو ان کے حساب کا بہتر طریقہ نہیں جانتے تھے، یا انہوں نے اسے استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا.
درحقیقت، عوامی ذرائع کے مشاہدے سے ملنے والے شواہد کے مطابق مہم کے دو اہم شعبوں کے ممکنہ اثرات کی سطح بہت مختلف دکھائی دیتی ہے.
سماجی ذرائع ابلاغ پر جو جوابات ہم تلاش کر سکے، ان کی پسندیدگی، مشاہدات اور تبصروں کی تعداد عموماً کم تھی، یعنی ایک یا دو ہندسوں میں. جیسا کہ اوپر بتایا گیا، یہ جوابات عموماً متعلقہ پوسٹ کے کل تبصروں کا چھوٹا حصہ تھے. رائے سازی کی مہمات کو 1 (کم ترین) سے 6 (زیادہ ترین) تک درجہ دینے والے دائرۂ رسائی کے پیمانے(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) کے مطابق ہم مہم کے اس حصے کو زمرہ 2 میں رکھیں گے. کئی پلیٹ فارموں پر تبصرے تو تھے، مگر اپنے دائرے سے باہر پھیلنے یا جوابات میں غالب آنے کے آثار کم تھے.
اس کے برعکس، فرضی صحافی مختلف اشاعتی اداروں میں اپنے مضامین شائع کروانے میں کامیاب رہے، جن میں سے بعض کے خاصے پیروکار تھے: مثلاً اس مہم کے مضامین شائع کرنے والے ایک آن لائن ادارے کے اگست 2026 تک فیس بک پر تقریباً 20 لاکھ، ایکس پر تقریباً 355,000 اور انسٹاگرام پر 544,000 سے زیادہ پیروکار تھے. کئی اشاعتی اداروں تک مسلسل رسائی کی بنیاد پر ہم مہم کے اس حصے کو زمرہ 4 میں رکھیں گے.


