کوڈو: Codex سے سیاق پر مبنی AI کوڈ کا جائزہ
کوڈو، Codex میں ادارہ جاتی سیاق اور کوڈ بیس کے معیارات شامل کرتا ہے، جس سے ڈیولپرز کو کوڈ کے مختلف ذخائر میں P0 مسائل پکڑنے میں مدد ملتی ہے.
کوڈو(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) کوڈ کے جائزے اور سافٹ ویئر کے معیار کے لیے AI ٹولز بناتا ہے، جو کوڈنگ ایجنٹس کو وہ ادارہ جاتی علم فراہم کرتے ہیں جس کی انہیں اپنے زیرِ ترمیم کوڈ کو سمجھنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے. شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو اتامار فریڈمین اسے “کوڈنگ ایجنٹ کا بہترین دوست” کہتے ہیں.
کوڈو انجینئرنگ کا علم جمع کرنے، کوڈ کا جائزہ لینے اور سافٹ ویئر کے معیار کی نگرانی کے لیے GPT‑6 Astra سمیت OpenAI کے ماڈلز استعمال کرتا ہے. اس کا Codex پلگ اِن ڈیولپرز کے کوڈنگ سیشنز میں یہی سیاق اور جائزے کی سہولت فراہم کرتا ہے.
“ہمیں OpenAI کے ماڈلز بہت پسند ہیں. ہمیں جدید ترین، بہترین ریزننگ والے ماڈلز چاہئیں، لیکن ایسے بھی جو واقعی تیز ہوں.”
اتامار بتاتے ہیں کہ صارفین کے سافٹ ویئر ماحول 10,000 یا اس سے زیادہ کوڈ کے ذخائر پر مشتمل ہو سکتے ہیں. وہاں کوڈ کے ایک حصے میں تبدیلی اس پر انحصار کرنے والی سروس کو ناکارہ کر سکتی ہے، خواہ وہ تبدیلی اپنے آپ میں درست نظر آئے. اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کوڈو نے Codex مارکیٹ پلیس میں ایک پلگ اِن بنایا.
اتامار کہتے ہیں، “Codex کسی ایک حصے سے متعلق کام کو مؤثر انداز میں مکمل کرنے میں بہت اچھا ہے.” کوڈو کا پلگ اِن، اس کے ایجنٹک ٹول باکس کے ذریعے Codex کو کوڈ بیس کے علم، ادارہ جاتی اصولوں اور آزادانہ جائزے تک رسائی دیتا ہے.
سیاق کی مدد سے Codex کوڈ کے مختلف ذخائر کے باہمی انحصار کو مدِنظر رکھ سکتا ہے، جن میں مختلف Git فراہم کنندگان کے پاس موجود ذخائر یا Kafka کے ذریعے جڑی ہوئی سروسز بھی شامل ہیں. اتامار کہتے ہیں، “کوڈو یہ تعلق قائم کرے گا اور Codex کو پورے سافٹ ویئر کو یکجا دیکھنے میں مدد دے گا تاکہ وہ P0 نقائص نظرانداز نہ ہوں.”
کوڈ لکھنا شروع کرنے سے پہلے Codex کوڈو کا پلگ اِن استعمال کر کے کوڈ بیس کے متعلقہ اصول اور pull request کی تاریخ اور نمونے حاصل کر سکتا ہے. Codex کی تبدیلیوں کے بعد کوڈو ان کا جائزہ لیتا ہے اور ڈیولپر کے pull request کھولنے سے پہلے ہی، اسی سیشن میں اپنے نتائج براہِ راست Codex کو بھیج دیتا ہے.
کوڈو میں AI ڈیولپرز سے تعلقات کی سربراہ ننینا نڈوکوے دیکھ رہی ہیں کہ ڈیولپرز اس طریقۂ کار کو استعمال کر کے Codex میں GPT‑6 ماڈلز کی مدد سے نئی خصوصیات بنا رہے ہیں اور سابقہ تکنیکی سمجھوتوں سے پیدا ہونے والے مسائل دور کر رہے ہیں. وہ Codex کے کوڈنگ کے کام سے کوڈو کے آزادانہ جائزے تک کی منتقلی کو خودکار بنا رہے ہیں. ننینا کہتی ہیں، “میں ڈیولپرز کو یہی کرتے دیکھ رہی ہوں، اور یہ واقعی پُرجوش بات ہے کیونکہ GPT‑6 بے حد باصلاحیت ہے.”
اتامار کوڈنگ اور جائزہ لینے والے ایجنٹس کو “ین اور یانگ” کہتے ہیں، یعنی ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے دو متضاد پہلو: ایک کوڈ بناتا ہے، دوسرا اسے پرکھتا ہے. ہر کردار کے لیے الگ ترتیب اور سیاق درکار ہوتا ہے اور اس میں کئی ایجنٹس شامل ہو سکتے ہیں. ان کا تصور یہ ہے کہ ایجنٹس نتائج پر تبادلۂ خیال کریں اور انسانی جائزے کے لیے “صرف وہی باتیں سامنے لائیں جنہیں وہ قبول نہیں کرتے.” ڈیولپرز منصوبہ ساز اور جائزہ کار بن جائیں گے، جو حل طلب مسائل کے ساتھ ایجنٹس کی گفتگو، سیاق اور ڈیولپرز کے سابقہ فیصلوں کو بھی دیکھ سکیں گے.
اتامار کہتے ہیں، “اعتماد اسی طرح پیدا ہوتا ہے.” ننینا مزید کہتی ہیں، “میرے خیال میں اس سے مجموعی طور پر پورا عمل زیادہ مؤثر ہو جاتا ہے.” “ہم اپنی مہارت کے بہترین پہلوؤں سے فائدہ اٹھا پاتے ہیں.”
کوڈو میں ننینا، سافٹ ویئر کی تیاری کے اپنے خودکار طریقۂ کار اور علمی کاموں میں GPT‑6 Astra کی ایکسٹرا ہائی اور Ultra ریزننگ کی ترتیبات استعمال کر رہی ہیں.
“کون سا کام ہے جو Codex نہیں کرتا. Codex جو کچھ بھی کرتا ہے، مجھے سب پسند ہے. مجھے AI اور خودکاری کو یکجا کرنے کا خیال بہت پسند ہے.”
ننینا نے Codex کے لیے ایک نظام الاوقات مقرر کیا ہے جس کے مطابق وہ رپورٹ دیتا ہے کہ انہوں نے ہفتے بھر میں کیا کام مکمل کیا اور آگے کہاں توجہ دے سکتی ہیں یا بہتری لا سکتی ہیں. وہ اسے سماجی پلیٹ فارمز پر ایجنٹ پر مبنی انجینئرنگ سے متعلق گفتگو کی تحقیق اور ڈیولپرز کے لیے مواد کے خیالات تجویز کرنے کے لیے بھی استعمال کرتی ہیں. اپنے کوڈ میں تبدیلیوں کے لیے وہ Codex کو مقررہ اوقات پر اپنے کام کا تجزیہ کرنے اور ایجنٹ کی ایسی مہارتیں تجویز کرنے کی ہدایت دیتی ہیں جنہیں بنایا یا بہتر کیا جا سکے.
اتامار کے نزدیک OpenAI کا حال ہی میں جاری کردہ Decisions API یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہر فیصلے کے لیے لسانی ماڈلز پر انحصار کرنے کے بجائے، اس سے طے کیا جائے کہ سافٹ ویئر کی تیاری کے ہر مرحلے پر کون سے اصول اور ایجنٹ کی کون سی مہارتیں لاگو ہوتی ہیں.
وہ مثال دیتے ہیں کہ Decisions API یہ منتخب کر سکتا ہے کہ 200 اصولوں میں سے کن کی جانچ ضروری ہے، جس کے بعد لسانی ماڈل متعلقہ اصولوں پر ریزننگ کرے. اس سے انتخاب تیز اور کم خرچ ہو سکتا ہے اور جائزے کا معیار بھی بہتر ہو سکتا ہے. اتامار کہتے ہیں، “Decisions API ہمارے لیے اس عمل پر اعتماد بڑھانے کا ایک بہت بڑا موقع ہے.”
ننینا کہتی ہیں کہ کوڈو کا طریقہ “مصنوعی ذہانت کے بہترین پہلوؤں کو روایتی سافٹ ویئر انجینئرنگ اور اسکرپٹنگ کے بہترین پہلوؤں کے ساتھ یکجا کرتا ہے.” کمپنی کا علم کوڈنگ ایجنٹس کی رہنمائی کرتا ہے، آزادانہ جائزے سے ان کے کام کی جانچ ہوتی ہے اور باقی رہ جانے والے سوالات انسانی مہارت سے حل ہوتے ہیں.
اس سے اس نظام کی بنیاد بنتی ہے جسے اتامار سافٹ ویئر فیکٹری کہتے ہیں: ایسا نظام جسے صارفین خود ترتیب دے سکیں اور اس کے مالک ہوں، جہاں کوڈنگ اور جائزہ لینے والے ایجنٹس مل کر کام کریں اور یہ سمجھ بھی موجود ہو کہ عملی استعمال میں سافٹ ویئر کیسے بدلتا ہے.
OpenAI کے ساتھ کوڈو ایک ایسا مستقبل تشکیل دے رہا ہے جہاں کوڈنگ ایجنٹس کمپنی کے تجربے سے زیادہ فائدہ اٹھائیں اور ڈیولپرز اپنی قوتِ فیصلہ وہاں استعمال کر سکیں جہاں اس کی سب سے زیادہ اہمیت ہو.


