آپریشن ”غلط نمبر“: مصنوعی ذہانت کی مدد سے کام کے بہانے فراڈ
OpenAI نے ایسے اکاؤنٹس پر پابندی لگا دی جو غالباً کمبوڈیا سے چلائے جا رہے تھے اور برطانیہ کے لوگوں کو نشانہ بنانے والے فراڈ کے طریقۂ کار میں مصنوعی ذہانت استعمال کرتے تھے.
یہ مطالعاتی جائزہ اصل میں OpenAI کی جون 2025(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) کی رپورٹ میں شائع ہوا تھا.
سرگرم فریق
ہم نے ان ChatGPT اکاؤنٹس پر پابندی لگا دی جو انگریزی، ہسپانوی، سواحلی، کنیاروانڈا، جرمن اور ہیٹیائی کریول میں بھرتی جیسے مختصر پیغامات تیار کر رہے تھے. ان پیغامات میں سوشل میڈیا پوسٹس کو پسند کرنے جیسے معمولی کاموں کے عوض بھاری تنخواہوں کی پیشکش کی جاتی اور وصول کنندگان کو دوسرے لوگوں کو بھرتی کرنے کی ترغیب دی جاتی تھی. یہ کارروائی انتہائی مرکزی انداز میں چلتی دکھائی دی اور غالباً کمبوڈیا سے شروع ہوئی تھی.
مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ترجمے کے آلات کی مدد سے ہم مہم میں OpenAI کی خدمات کے استعمال کی فوری تفتیش کر کے اسے روک سکے.
طرزِ عمل
اس گروہ کے زیادہ تر تبصرے ترجمے کے کاموں سے متعلق تھے. انہوں نے ChatGPT کو چینی اور کئی دیگر زبانوں کے درمیان گفتگو کے جملوں کا ترجمہ کرنے کے لیے استعمال کیا، خصوصاً انگریزی، ہسپانوی، کنیاروانڈا، سواحلی، جرمن اور ہیٹیائی کریول کے لیے. ان کاموں میں عموماً پہلے موصولہ پیغام کا چینی میں ترجمہ کیا جاتا اور پھر چینی میں دیے گئے جواب کو واپس اصل زبان میں منتقل کیا جاتا تھا.
ان میں سے کچھ پیغامات بلا تعارف بھیجے جانے والے ملازمت کے اشتہارات جیسے تھے، جن میں معمولی کام کے عوض بھاری فی گھنٹہ اجرت کی پیشکش کی گئی تھی. ایسا ہی ایک پیغام ایس ایم ایس کے ذریعے برطانیہ کے موبائل نمبروں کے بظاہر بے ترتیب مجموعے کو بھیجا گیا، جن میں سے ایک OpenAI کے تفتیش کار کا تھا. ابتدائی ایس ایم ایس کی مناسبت سے ہم نے اس کارروائی کو ”غلط نمبر“ کا نام دیا ہے.

ChatGPT کے ذریعے تیار کیا گیا ایس ایم ایس، جو اتفاقاً OpenAI کے ایک تفتیش کار کو بھیج دیا گیا.
ایسا معلوم ہوا کہ خطرہ پیدا کرنے والے فریق پیغام رسانی کے متعدد پلیٹ فارم استعمال کر رہے تھے. ابتدائی ایس ایم ایس میں وصول کنندگان کو واٹس ایپ پر رابطہ کرنے کو کہا گیا، جہاں جواب دینے والوں کو پھر ٹیلی گرام پر ایک ”رہنما“ کے پاس بھیجا گیا. بعض سرگرمیوں میں بون چیٹ پیغام رسانی ایپ کا بھی ذکر تھا. ان ذرائع سے بھیجے گئے ابتدائی تعارفی پیغامات بظاہر ہمارے ماڈلز کے ذریعے تیار نہیں کیے گئے تھے. یہ معمول کے ایسے پیغامات تھے جو غالباً ہر گفتگو میں استعمال کیے جا سکتے تھے.

ایس ایم ایس کے بعد واٹس ایپ پر بھیجا گیا پیغام. بظاہر یہ پیغام ہمارے ماڈلز نے تیار نہیں کیا تھا.
ترجمے کے بہت سے کاموں میں ایسی گفتگو شامل تھی جو مبینہ ”آجر“ کمپنیوں کے نمائندوں کی جانب سے ہونے کا دعویٰ کرتی تھی. اس تفتیش کے دائرے میں شامل ChatGPT کی متعدد گفتگوؤں میں انہی کمپنیوں کے نام بار بار سامنے آئے. ان میں ہائی سنگ ایڈورٹائزنگ(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) اور لائٹننگ شیئرڈ اسکوٹر کمپنی (LSSC)(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) شامل تھیں. عوامی رپورٹوں میں ہائی سنگ اور LSSC کی شناخت کام کے بہانے چلائی جانے والی مبینہ اسکیموں کے طور پر ہوئی ہے. اگرچہ ہم نے آزادانہ طور پر ان اداروں کی نوعیت کی تصدیق نہیں کی، لیکن ہماری تفتیش سے معلوم ہوا کہ مبینہ طور پر ان کی جانب سے آنے والے پیغامات چینی بولنے والے ChatGPT صارفین نے تیار کیے تھے، جو غالباً کمبوڈیا سے سرگرم تھے.
تیار کردہ نتائج
یہ گروہ جن کمپنیوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتا تھا، وہ حصص کی خرید و فروخت اور اسکوٹر کرائے پر دینے سے لے کر سوشل میڈیا کی پسندیدگیاں فروخت کرنے تک مختلف صنعتوں سے تعلق رکھتی تھیں. ایک واضح خطرے کی علامت ٹک ٹاک پر صرف ایک پسندیدگی کے لیے $5 سے زیادہ ادائیگی کی پیشکش تھی؛ اس کے برعکس، آن لائن بازاروں کے ہمارے دستی جائزے سے معلوم ہوا کہ بعض فروخت کنندگان 1,000 سوشل میڈیا پسندیدگیوں کے لیے $10 سے بھی کم لیتے ہیں.
پلیٹ فارم سے باہر کے اشاروں کو داخلی مشاہدات کے ساتھ ملا کر ہم نے بار بار دہرائے جانے والے طریقۂ کار کی شناخت کی. اس حربے کی وسیع تر سمجھ بوجھ پیدا کرنے اور اس کی درجہ بندی آسان بنانے کے لیے ہم اس طریقے کو یوں بیان کرتے ہیں: دستک (بلا تعارف رابطہ)، جوش (دل چسپی پیدا کرنا) اور ڈنک (پیسہ نکلوانا):
دستک (بلا تعارف رابطہ): گروہ ایسا مواد تیار کرتا ہے جو اجنبی لوگوں سے رابطے کے لیے ہوتا ہے اور عموماً معمولی کام کے عوض غیر معمولی طور پر بھاری اجرت یا حصص بازار میں سرمایہ کاری پر زیادہ منافع کا وعدہ کرتا ہے. ان پیشکشوں میں سوشل میڈیا پوسٹس کو پسند کرنے جیسے آسان کاموں کے لیے بھاری اجرت یا منافع بخش سرمایہ کاری کے مواقع شامل ہوتے ہیں.
جوش (دل چسپی پیدا کرنا): گروہ گفتگوؤں کا ترجمہ کرتا ہے، جو غالباً Operator اور اس کے ”ملازمین“ کے درمیان ہوتی ہیں. ان گفتگوؤں میں کاموں کی عملی تفصیلات شامل ہوتی ہیں، مگر بیچ بیچ میں کمائی اور ممکنہ بونس سے متعلق ترغیبی پیغامات بھی بکثرت آتے ہیں.
ڈنک (پیسہ نکلوانا): گروہ ایسا مواد تیار کرتا اور/یا بھیجتا ہے جو ”ملازم“ یا ”سرمایہ کار“ پر زیادہ انعام حاصل کرنے کے لیے رقم دینے کا دباؤ ڈالتا ہے. اس کی کئی صورتیں ہوتی ہیں، جن میں ابتدائی ”جمع رقم“، کرپٹو کرنسی کی خریداری اور ”انتظامی فیس“ شامل ہیں.

ChatGPT کے ذریعے تیار کیا گیا اور اس گروہ کی جانب سے پھیلایا گیا بلا تعارف رابطے کا ایک مثالی پیغام. یہ پیغام بیک وقت آٹھ فون نمبروں پر بھیجا گیا، جن میں سے کوئی بھی وصول کنندہ کے رابطوں میں شامل نہیں تھا. ایک وصول کنندہ نے فوراً گروپ چھوڑ دیا.

گروہ کی جانب سے ایک ممکنہ متاثرہ شخص کو بھیجا گیا ٹیلی گرام پیغام، جس میں اسے £20 مالیت کی کرپٹو کرنسی خرید کر ایک نامعلوم تاجر کو منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے.
عوامی رپورٹوں(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) سے اشارہ ملتا ہے کہ ان میں سے بعض کمپنیاں نئے بھرتی ہونے والوں سے بھاری شمولیتی فیس وصول کرتی تھیں اور پھر اس رقم کا کچھ حصہ موجودہ ”ملازمین“ کو اتنا ادا کرنے میں استعمال کرتی تھیں کہ ان کی دل چسپی برقرار رہے. یہ ڈھانچا کام کے بہانے کیے جانے والے فراڈ(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) کی نمایاں خصوصیت ہے.
اثرات
محدود معلومات کے باعث اس گروہ کی حقیقی رسائی کا اندازہ لگانا مشکل ہے. تاہم، پلیٹ فارم سے باہر کی رپورٹیں(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) اور وہ گفتگوئیں جن میں ”ملازمین“ نے رقم واپس کرنے کا مطالبہ کیا، ظاہر کرتی ہیں کہ کم از کم کچھ افراد نے ان مبینہ آجروں کو ادائیگی کی تھی. ہم نے حقیقی صارفین کو سوشل میڈیا پر ان کمپنیوں کا دفاع کرتے بھی دیکھا، جس سے حقیقی دنیا میں کسی حد تک شمولیت کا پتا چلتا ہے.