فریب پر مبنی روزگار کی سازش: مصنوعی ذہانت کی مدد سے بھرتی میں دھوکا دہی
OpenAI نے ایسے اکاؤنٹس پر پابندی لگائی جو ممکنہ طور پر فریب پر مبنی روزگار کی سازش میں سہولت کے لیے استعمال ہوئے اور جن میں شمالی کوریا سے منسلک آئی ٹی کارکنوں کی عوامی طور پر رپورٹ شدہ سرگرمی کی خصوصیات تھیں.
یہ کیس اسٹڈی اصل میں OpenAI کی فروری 2025(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) کی رپورٹ میں شائع ہوئی تھی.
ذمہ دار عناصر
ہم نے متعدد ایسے اکاؤنٹس پر پابندی لگا دی جنہیں ممکنہ طور پر فریب پر مبنی روزگار کی سازش میں سہولت فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا. ہم نے جو سرگرمی دیکھی، وہ ان حربوں، تکنیکوں اور طریقۂ کار (TTPs) سے مطابقت رکھتی ہے جنہیں مائیکروسافٹ(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) اور گوگل(نئی ونڈو میں کھلتا ہے) نے شمالی کوریا سے ممکنہ طور پر منسلک آئی ٹی کارکنوں کی ایک سازش سے منسوب کیا ہے.
اگرچہ ہم ان عناصر کے مقامات یا قومیتوں کا تعین نہیں کر سکتے، مگر جس سرگرمی کو ہم نے روکا اس میں وہ خصوصیات پائی گئیں جن کی شمالی کوریا کی جانب سے فریب پر مبنی بھرتی کی سازشوں کے ذریعے آمدنی حاصل کرنے کی سرکاری کوششوں کے حوالے سے عوامی طور پر اطلاع دی گئی ہے(نئی ونڈو میں کھلتا ہے). ان سازشوں میں افراد دھوکا دہی سے مغربی کمپنیوں میں ملازمتیں حاصل کرتے ہیں تاکہ حکومت کے مالیاتی نیٹ ورک کو سہارا دیا جا سکے.
طرزِ عمل
مختلف اکاؤنٹس نے ہمارے ماڈلز سے ایسا مواد تیار کروایا جو بظاہر بھرتی کے عمل کے ہر مرحلے کو مختلف فریب کارانہ طریقوں سے نشانہ بناتا تھا، اور یہ تمام طریقے ایک دوسرے کو تقویت دینے کے لیے بنائے گئے تھے.
ان عناصر نے ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (VPNs)، اینی ڈیسک جیسے ریموٹ رسائی کے ٹولز اور وائس اوور آئی پی (VOIP) فونز استعمال کیے، جو زیادہ تر بظاہر امریکہ میں موجود تھے. اگرچہ ہمیں ان عناصر کے مواد کی تقسیم کے طریقوں کے بارے میں محدود معلومات حاصل ہیں، تاہم ہم نے لنکڈ اِن پر پوسٹ کیا گیا مواد شناخت کیا.
تیار کردہ نتائج
ان عناصر کے تیار کردہ مواد کا ایک بڑا حصہ فرضی ”ملازمت کے امیدواروں“ کی ذاتی دستاویزات، مثلاً سی وی، آن لائن ملازمتی پروفائلز اور تعارفی خطوط پر مشتمل تھا. ان سی وی اور پروفائلز کو اکثر ملازمت کے کسی مخصوص اشتہار کے مطابق ڈھالا جاتا تھا تاکہ امیدوار کے انتہائی اہل دکھائی دینے کے امکانات بڑھ جائیں. مواد کے دوسرے مجموعے میں ”معاون“ فرضی کردار بنائے گئے، جنہیں ”ملازمت کے امیدواروں“ کے حوالوں کی تصدیق کرنے اور ملازمت کے مواقع کے لیے ان کی سفارش کرنے میں استعمال کیا گیا.
اس کے ساتھ ساتھ، یہ لوگ اپنی سازشوں میں مدد کے لیے حقیقی افراد کو بھرتی کرنے کی غرض سے سوشل میڈیا پوسٹس بھی تیار کرتے رہے. ان میں، مثلاً، ایسے افراد شامل تھے جو اپنے گھر پر لیپ ٹاپ وصول کرکے رکھنے یا اس سازش کے لیے اپنی شناخت دینے پر آمادہ ہوں، تاکہ امیدوار پس منظر کی جانچ میں کامیاب ہو سکیں.
آخر میں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ”ملازمت کے امیدواروں“ کے فرضی کرداروں نے انٹرویوز کے دوران تکنیکی اور طرزِ عمل سے متعلق سوالات کے قابلِ اعتبار جوابات تیار کرنے کے لیے ہمارے ماڈلز استعمال کیے. تاہم، ہم نے انہیں ہمارے اسپیچ-ٹو-اسپیچ ٹولز استعمال کرتے نہیں دیکھا.
بظاہر ملازمت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے کوڈ لکھنے، مسائل حل کرنے اور ساتھی کارکنوں سے پیغام رسانی جیسے ملازمت سے متعلق کام انجام دینے کے لیے ہمارے ماڈلز استعمال کیے. انہوں نے ویڈیو کالز سے گریز، غیر مجاز ممالک سے کمپنی کے نظاموں تک رسائی یا بے قاعدہ اوقات میں کام کرنے جیسے غیر معمولی رویوں کی وضاحت کے لیے قابلِ یقین کہانیاں گھڑنے میں بھی ہمارے ماڈلز استعمال کیے.

اس مواد کی مثال جسے اس گروہ نے ہمارے ماڈلز سے تیار کروا کر سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ پر پوسٹ کیا، بظاہر اس مقصد سے کہ امریکی شہریوں کو لاعلمی میں اپنی سازش کی حمایت کے لیے بھرتی کیا جا سکے.
اثرات
چونکہ ہمیں اس مجموعی سرگرمی کے صرف ایک مختصر حصے کی معلومات حاصل ہیں، اس لیے اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے متعدد متعلقہ فریقوں سے معلومات درکار ہوں گی.
OpenAI کی پالیسیاں ہمارے ٹولز کے نتائج کو دھوکا دہی یا جعل سازی کے لیے استعمال کرنے کی سختی سے ممانعت کرتی ہیں. فریب پر مبنی روزگار کی سازشوں کی تحقیقات کے دوران ہم نے درجنوں اکاؤنٹس شناخت کرکے ان پر پابندی لگا دی. ہم نے ان جعل ساز نیٹ ورکس کے بارے میں حاصل شدہ معلومات، جنہیں ہم نے ناکام بنایا، صنعت کے دیگر اداروں اور متعلقہ حکام کے ساتھ بانٹی ہیں. اس سے مشترکہ تحفظ کو فروغ دیتے ہوئے ایسے خطرات کا پتا لگانے، انہیں روکنے اور ان کا جواب دینے کی ہماری اجتماعی صلاحیت بہتر ہوئی ہے.