ChatGPT سے جنگلاتی آگ کا پتا لگانا
کالج کے پہلے سال کے طالب علم رایان ہونری نے ایک سائنسی منصوبے کو ایسے سینسر نیٹ ورک میں بدل دیا جو جنگلاتی آگ کے تباہ کن ہونے سے پہلے اس کا پتا لگا لیتا ہے۔

“پانچویں جماعت کے طالب علم کی حیثیت سے میں سمجھنا چاہتا تھا کہ آگ اتنی تباہ کن کیوں ہوتی ہے اور اس کا کوئی حل کیوں نہیں تھا۔”
گھر کے قریب آگ
پانچویں جماعت میں 2018 کی کیمپ فائر کی تباہی دیکھنے کے بعد رایان ہونری نے سوچا کہ کوئی بہتر طریقہ ضرور ہونا چاہیے۔ اس نے چند تاروں، حرارت کا پتا لگانے والے آلے اور ہیئر ڈرائر کی مدد سے اس خیال کو ایک سائنسی منصوبے میں بدل دیا۔
پانچ سال بعد وہ سائنسی منصوبہ سینسوری اے آئی بن گیا، جو جنگلاتی آگ کا پتا لگانے والا ایسا نظام ہے جو آگ بھڑکتے ہی اسے شناخت کرکے فائر فائٹرز اور حکام کو فوراً خبردار کرتا ہے۔ ChatGPT سینسر کے پیچیدہ ڈیٹا کو واضح اور قابلِ عمل معلومات میں بدلتا ہے، جنہیں امدادی کارکن جلد اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔

رایان ایک سینسر کی تاروں کی ترتیب کو بہتر بنا رہا ہے۔

رایان سینسر کے براہِ راست ڈیٹا کی بنیاد پر ChatGPT سے انتباہات وصول کرتا ہے۔

رایان اسی گیراج میں اپنے سینسروں پر تجربات کرتا ہے جہاں سینسوری اے آئی کا آغاز ہوا تھا۔
ابتدائی علامات کا پتا لگانا
جنگلاتی آگ اکثر دور دراز علاقوں میں شروع ہوتی ہے، جہاں گھاٹیاں، نباتات اور محدود حدِ نگاہ اس کا جلد پتا لگانا مشکل بنا دیتے ہیں۔ کیمرے، مصنوعی سیارے اور انسانی نگران آگ کی ابتدائی علامات کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔
سینسوری اے آئی کے شمسی توانائی سے چلنے والے سینسر آگ بھڑکتے ہی حرارت، دھوئیں، شعلے اور دھوئیں کے بادل کی سرگرمی کا پتا لگاتے ہیں۔ یہ معلومات میش نیٹ ورک کے ذریعے پہنچائی جاتی ہیں، جبکہ ممکنہ آگ کا پتا لگتے ہی ChatGPT سینسر کے براہِ راست ڈیٹا کو ایسے واضح انتباہات میں بدل دیتا ہے جنہیں امدادی کارکن سمجھ سکیں۔
“یہ ایک انقلابی ٹیکنالوجی ہوتی، خواہ اسے کسی بچے نے تیار نہ کیا ہوتا۔”

رایان ChatGPT کی مدد سے سینسر کے پیچیدہ ڈیٹا کو جنگلاتی آگ کے واضح اور آسان انتباہات میں بدلتا ہے۔

رایان کام کرتے ہوئے ہاتھ استعمال کیے بغیر سینسر کی جانچ کے لیے ChatGPT کی صوتی سہولت استعمال کرتا ہے۔
انتباہات کو جوابات میں بدلنا
آگ کا پتا لگانا صرف پہلا قدم ہے۔ اصل چیلنج سینسر کے پیچیدہ ڈیٹا کو ایسے جوابات میں بدلنا ہے جن پر لوگ عمل کر سکیں۔ رایان کے سینسر حرارتی تصاویر، دھوئیں، جی پی ایس نقاط، ہوا کی صورتِ حال اور آگ کے ممکنہ پھیلاؤ کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ChatGPT اس معلومات کو فائر فائٹرز اور رہائشیوں کے لیے واضح اور فوری ہدایات میں بدلنے میں مدد کرتا ہے۔
ChatGPT کی مدد سے رایان نے واکی ٹاکی کی ایک سہولت بنائی، جس کے ذریعے فائر فائٹرز براہِ راست ایسے سوال پوچھ سکتے ہیں: کیا یہ آگ ہے؟ یہ کہاں لگی ہے؟ انخلا کا بہترین راستہ کون سا ہے؟ ChatGPT سینسر کے براہِ راست ڈیٹا کو چند سیکنڈ میں جوابات میں بدل دیتا ہے۔
آگ کا سراغ لگانا
آگ کے راستے پر نظر رکھنا
آگ کے علاقے کی بصری نقشہ کشی

“ChatGPT نے ایک پرانے مسئلے کو حل کرنے کے نئے طریقے تلاش کرنے میں ہماری مدد کی۔ یہ آگ کا زیادہ تیزی سے پتا لگا رہا ہے۔”

رایان نے ChatGPT سے چلنے والی واکی ٹاکی سہولت بنائی، جس سے فائر فائٹرز پتا لگائی گئی آگ کے بارے میں فوری سوالات پوچھ سکتے ہیں۔

رایان فائر فائٹرز کو دکھاتا ہے کہ اس کے سینسر ChatGPT کی مدد سے آگ کے مقام، راستے اور قریبی انخلا کے راستوں کو نقشے پر کیسے دکھاتے ہیں۔

رایان سینسروں کو مسلسل بہتر بنانے کے لیے فائر فائٹرز کے ساتھ کام کرتا ہے۔


سائنس میلے سے سینسر نیٹ ورک تک
جو کام پانچویں جماعت کے ایک سائنسی منصوبے کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ اب جنوبی کیلیفورنیا میں جنگلاتی آگ کا پتا لگانے والا ایک فعال نظام ہے۔ سینسوری اے آئی میدان میں پہلے ہی آگ کا پتا لگا چکا ہے، تین شہروں میں نصب ہے اور ریاست بھر میں 100 سے زیادہ سینسروں تک پھیل رہا ہے۔
کالج کے لیے گھر چھوڑنے کی تیاری کے دوران رایان ہر تنصیب کے ساتھ نیٹ ورک بہتر بنانے کے لیے فائر فائٹرز، محققین اور زمینی وسائل کے منتظمین کے ساتھ کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کا مقصد فائر فائٹرز کو جلد کارروائی کرنے، رہائشیوں کو زیادہ تیزی سے واضح معلومات دینے اور آبادیوں کو جنگلاتی آگ سے زیادہ محفوظ بنانے میں مدد کرنا ہے۔
“کوئی ایسا کام تلاش کرنے کے لیے عمر کی کوئی شرط نہیں جس کے لیے آپ واقعی پُرجوش ہوں۔”
